跳到主要內容

قومی سلامتی کے جامع نظریہ کا پانچ نسبتی جوڑے

Five pairs of relationships


"پانچ نسبتی جوڑے" اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترقی اور سیکیورٹی؛ بیرونی اور اندرونی سیکیورٹی؛ وطن کی حفاظت اور عوام کی حفاظت؛ روایتی سیکورٹی اور غیر روایتی سیکورٹی؛ اور ہماری سلامتی اور ہماری مشترکہ سلامتی کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے۔

 ترقی سلامتی کی بنیاد ہے، اور سلامتی ترقی کے لیے ایک شرط ہے، دونوں کی مساوی اہمیت ہے۔ جب کہ علیحدگی پسندی، حکومت شکنی، تخریبی سرگرمیوں، توڑ پھوڑ اور فسادات سمیت داخلی سلامتی کے مسائل کو طاقت سے روکتے ہوے، ہمیں بیرونی سلامتی کے مسائل سے ہمیشہ چوکس رہنا چاہیے، جیسے کہ مداخلت، تخریب کاری، بیرونی قوتوں کی مداخلت اور دراندازی اور بین الاقوامی دہشت گردانہ سرگرمیاں، جو کہ قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہیں یا یہاں تک کہ نظام کی سلامتی، ملک کی سالمیت اور خودمختاری کو بھی چیلنج کر سکتی ہیں۔ .

 ملک کی سلامتی کسی قوم کی بقا اور ترقی کے لیے لازمی شرط ہے اور عوام کی سلامتی قومی سلامتی کا حتمی ہدف ہے، دونوں کی مساوی اہمیت ہے۔ بلاشبہ روایتی سیکورٹی (یعنی سیاسی سیکورٹی، ملک کی سلامتی اور ملٹری سیکورٹی) ضروری ہے، نئے دور میں نئے چیلنجوں کو قبول کرنے اور مستقبل کی ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں غیر روایتی سیکورٹی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ہم پرامن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، اس کے علاوہ، ہم اپنی قومی سلامتی کی حفاظت کرتے ہیں، بین الاقوامی امن اور مشن خلاصی میں شراکت لیتے ہوے بغیر تردد کے فعال طور پر بین الاقوامی ذمہ داریاں اور فرائض ادا کرتے ہیں، جس کا مقصد عالمی تہذیب کی ترقی اور سلامتی میں حصّہ ڈالنا ہے.

قومی سلامتی ایک لازم و ملزوم نظام ہے۔ تمام بنیادی اصول ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ ملک ایک یکجہتی ادارہ ہے، جبکہ قومی سلامتی ایک جامع نظریہ ہے جو طویل عرصے سے آپس میں جڑا ہوا ہے اور لازم و ملزوم ہے۔ قومی سلامتی کا جامع نظریہ ملک، قومی سلامتی کی اہمیت اور مقاصد کے بارے میں ہمیں سمجھنے میں مدد گار ہوتا ہے. وطن کو خاندان کے بنسبت فوقیت دیتے ہیں۔ چین ہمارا مادر وطن اور ہانگ کانگ ہمارا گھر ہے۔ جیسا کہ موضوع "قومی سلامتی کی حفاظت کرنا، ہمارے گھر کی حفاظت کرنا" ظاہر کرتا ہے کہ قومی سلامتی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہمارا گھر بھی محفوظ ہے۔